
پاکستان بھر میں یہ بحث زبان زد عام رہتی ہے کہ اس ملک میں طبقاتی نظام تعلیم (تین نظام) رائج ہیں. اول، ایلیٹ تعلیمی ادارے انگلش میڈیم اسکولز جن سے صرف اشرافیہ کی اولاد مستفید ہوتی ہیں یہاں کے اخراجات برداشت کرنا کسی عام شہری کے بس کی بات نہیں. ان اداروں میں قومی نصاب نہیں پڑھایا جاتا اور نہ ہی یہ جود کو قومی تعلیمی پالیسی کے پابند سمجھتے ہیں. دوم، عام تعلیمی ادارے جو گورنمنٹ کے اردو میڈیم سکولز ہیں. جن میں عام شہری آئین پاکستان کے آرٹیکل 25 اے کے تحت مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں. ان ادروں کے فارغ التحصیل کلرک اور عام حکومتی مشینری کے کل پرزے بنتے ہیں. البتہ موجودہ دور میں تعلیم کمرشلائز ہونے کی وجہ سے شہری اور نیم شہری علاقوں میں عام پرائیویٹ سیکٹر سکولز بھی حکومت کا اچھا خاصا ہاتھ بٹا رہے ہیں یہ بھی عام تعلیمی اداروں کی “کیٹیگری” میں ہی شامل ہیں. سوم، دینی اور خانقاہی تعلیمی ادارے جو دین اور مذہب کی تعلیم کی ذمہ داری کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں. ان کا بجٹ غیر سرکاری ہوتا ہے یہ اپنی مدد آپ کے اصولوں کے تحت چلتے ہیں. یاد رہے کہ انگریز دور سے قبل مسلمانوں کے نظام تعلیم اور تعلیمی ادروں کی مکمل ذمہ داری سٹیٹ کی ہوا کرتی تھی جسمیں حکومت سرکاری خزانہ سے طلبہ کے تعلیمی اخراجات، طعام و قیام اور اساتدہ کے وظائف (تنخواہ) ادا کرتی تھی. بر صغیر پاک و ہند پر انگریز کا قبضہ ہوا تو اس نے سب سے پہلے ایک کامیاب ترین تعلیمی نظام تعلیم پر ہاتھ ڈالا کہ اس غیور قوم کو نفسیاتی اور روحانی طور پر کمزور کرنا شروع کیا ان کو تقسیم در تقسیم کیا اور خود ان پر حکومت کرتا رہا. لارڈ میکالے کی تعلیمی پالیسی کے تحت انگریز حکومت نے انگریزی نہ جاننے والے پڑھے لکھے لوگوں کو نوکری کے چکر میں ڈال کر دیوار کے ساتھ لگا دیا کہ جو انگریزی جانتا ہے اسی کو ملازمت ملے گی. دوسرا مسلمانوں کے کامیاب ترین نظام تعلیم کو ختم اور تباہ کرنے کے لیے انگریز حکومت نے ان اداروں کے اخراجات اور اساتذہ کرام کے تعلیمی وظائف بند کر دیئے کہ یہ لوگ مجبور ہو کر انگریز کا دیا گیا نصاب پڑھانے پر مجبور ہوں. اس کے بر عکس بر صغیر پاک و ہند کے مشائخ اور علماء نے سر جوڑے اور اپنے نظام تعلیم کو بچانے کے لیے طریقہ کار وضع کیا کہ اپنی مدد آپ کے تحت “لو کاسٹ اور نو کاسٹ” کے اصولوں پر اپنا نظام تعلیم بچایا جائے. عوامی چندے، زکواۃ، صدقات، خیرات، چرم ہائے قربانی، فدیہ اور فطرانہ وغیرہ کی رقم کے ذریعہ اس نظام کو چلایا جائے گا. اس طرح اپنی مدد آپ کے تحت اسلامی ملی اور علاقائی اقدار، روایات اور اسلام کی اساس کو بچایا گیا. خیر بات ایک اور طرف چل نکلی. آمدم بر سر مطلب، انگریز سے آزادی ملے اب آٹھواں عشرہ شروع ہے لیکن ہم انگریز کا دیا گیا نظام تعلیم نہیں بدل سکے کہ ایلیٹ تعلیمی ادارے جن میں اشرافیہ کے لائق یا کندذہن جیسے بھی ہوں فارغ ہو کر حکمران بن رہے ہیں اور دوسرا طبقہ جو چاہے کتنے بھی ذہین و فطین ہی کیوں نہ ہوں عام سرکاری اور پرائیویٹ سکولز میں پڑھ کر بابو وغیرہ بن کر حکومت کا ہاتھ بٹا رہے ہیں. دینی تعلیمی اداروں کو آزادی مل جانے کے بعد بھی انگریز کی اولاد نے انھیں “اون” نہیں کیا. یہ ادارے اپنی مدد آپ کے تحت دفاعی انداز میں دین اسلام اور اسلامی اقدار کو اپنی مدد آپ کے تحت بچاتے پھرتے ہیں. الحمد للہ، ان کا اس کفر والحاد کے دور میں بڑا اہم رول ہے. گزشتہ چار دہائیوں سے انسانی حقوق کے نام پر نام نہاد پراپیگنڈا کر کے نصاب سے اسلام، اسلامی اقدار، ختم نبوت، جہاد اور اسلاف کو نکالا جا رہا ہے اور مغرب کے ہیروز کو نصاب میں شامل کیا جا رہا ہے تا کہ آئندہ آنے والی نسلیں ایلیٹ سکولوں کے فارغ التحصیل لوگوں کی طرح مغرب کے ہیروز کو اپنے لیے رول ماڈل مانیں. یہاں دینی مدارس قابل تحسین ہیں کہ جنھوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنی اقدار کو بچایا ہوا ہے اور آزادی سے اپنا نظام تعلیم چلا رہے ہیں. گزشتہ حکومت نے سنگل نیشنل کریکولم کے نام سے ایک دلفریب نعرہ لگایا کہ ایلیٹ، سرکاری اور دینی تعلیمی اداروں میں ایک ہی نصاب اور نظام تعلیم رائج کیا جائے گا. یہ نعرہ بڑا دلفریب تھا اور اس کو بڑی پزیرائی حاصل ہوئی. ویسے قومی نصاب ہوتا ہی سنگل ہے کیونکہ نصاب ہمیشہ قومی مقاصد کے تابع ہوتا ہے لہزا اس کا نام دنیا بھر میں قومی نصاب ہی ہوتا ہے سنگل کا لائحقہ نہیں ہوتا. قوم کو اس بیانیہ سے ٹرک کی بتی پیچھے لگانے کے لیے غیر منظقی طور پر نیشنل کریکولم کے ساتھ لفظ سنگل کا اضافہ کیا گیا. خیر جو بھی ملک عزیز میں حکمران آیا اس نے ایک نئی ڈُگڈُی بجائی اور پوری قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا. عوام اس کو مسیحا سمجھنے لگی اور وہ اپنے دن گزار کر پتلی گلی سے اپنی راہ لے کر چلتا بنا. سنگل نیشنل کریکولم کے بہانے اسلام آباد میں ایک مخصوص لبرل لابی کو نیشنل کریکولم کونسل میں بٹھایا گیا جو سنگل نیشنل کریکولم اور یکساں نظام تعلیم دینے میں تو بالکل ناکام رہی البتہ پرائمری کے نصاب سے انسانی حقوق کے نام پر اسلامی مواد کو نکالنے کی سعی کرتے رہے. 2020 کے نصاب کے تحت اسلام آباد میں ماڈل بکس کے نام سے درسی کتب تیار کی گئیں. ان کتب کے رائج اور ٹیسٹ ہونے سے قبل ہی ان میں تبدیلی شروع کر دی گئی. ایک نئے بیانیہ اور عجیب فلسفہ کے ساتھ کہ اسلامی تعلیمات اور اقدار کو صرف اسلامیات تک محدود کیا جائے اس کے علاوہ دیگر مضامین سے تمام اسلامی مواد کو خارج کیا جائے. اسلامی اقدار اور روایات کو صرف اسلامیات کے مضمون میں پڑھایا جائے. یوں پاکستانی نظام تعلیم میں ایلیٹ تعلیمی ادارے انسانی حقوق کے دلفریب نعروں میں مزید مضبوط ہوئے اور شطر بےمہار بنتے چلے گئے خیر وہاں تو پہلے سے ہی ان کی من مرضی کا نصاب رائج ہے نہ کہ پاکستان کا قومی نصاب. ان اقدامات سے دینی تعلیمی ادارے مزید “ڈیفنسو” ہوتے چلے گئے اور عام سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا تو برا حال ہوتا گیا. جسکی مثال خیبر پختونخوا کے عام تعلیمی ادارے ہیں. حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیا کہ اس سال تعلیمی سال اگست (ستمبر) سے شروع ہو گا. ابتدا میں سمجھا گیا کہ آئندہ ستمبر سے تعلیمی سال کا آغاز ہو کر اگست میں اختتام پزیر ہو گا مگر بعد میں علم ہوا کہ یہ وجہ نہیں ہے بلکہ مفت درسی کتب کی سنگل نیشنل کریکولم کے چکر میں بر وقت طباعت ہی نہیں ہو سکی اس لیے ان درسی کتب کی تیاری تک اپریل سے لیکر اگست تک بچوں کو انتظار کرنا ہو گا. نصاب اور نہ نظام تعلیم سنگل ہو سکا بلکہ کوّا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا والی بات ہوئی. بچے بلا وجہ سکول آتے جاتے ہیں اور یہ تعلیمی سال اب ستمبر سے شروع ہو کر مارچ میں اختتام پزیر ہو گا. اب کی بار چھ سات ماہ میں سال بھر کا نصاب استاد بچوں کو پڑھانے سکھانے کے بدلے انڈیلیں گے. اس ناکام اور ناقص پالیسی کی وجہ سے طلبہ اور والدین سخت پریشان اور تذبذب کا شکار ہیں. طلبہ کا سکولوں سے ڈراپ ہو رہا ہے. بچے سکول چھوڑ رہے ہیں. البتہ، عام پرائیویٹ سکولز مالکان نے اپریل سے تعلیمی سال کا آغاز کر دیا ہے جو کہ قابل تحسین ہے مگر تقریبا 70 فیصد آبادی کے غریب بچے درس و تدریس کے آغاز کے لیے کتابوں کے منتظر بیٹھے بوریت کا شکار ہیں. اس پر والدین، اساتذہ تنطیموں اور میڈیا نے بار ہا آواز اٹھائی اور حل بھی تجویز کئے مگر ایک بھی نہیں سنی گئی بہر حال اب بھی وقت ہے بچوں کے مستقبل کو محفوظ کیا جاسکتا ہے. جیسے جب تک درسی کتابیں نہیں تب تک پرانی کتابوں سے تعلیمی سیشن کا آغاز کیا جا سکتا ہے. اساتذہ SLOs نصاب کے مطابق تدریس کروا سکتے ہیں. استاد ایک کتاب سے پوری کلاس کو پڑھا سکتا ہے. اب بھی وقت ہے سیشن کا آغاز کر دیا جائے کمی بیشی پوری ہو جائے گی اتنا زیادہ وقت نہیں گزرا ورنہ پانچ چھ ماہ کا تعلیمی خسارہ بچے تمام عمر بھگتیں گے. یہ ہے سنگل نیشنل کریکولم کا ڈرامہ، نتائج اور اس کا ڈراپ سین.