بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے اہم سیاحتی مقام پہلگام میں گزشتہ منگل کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے، جس میں 26 سیاح ہلاک ہوئے،جس کے بعد بھارت نے اپنی طرف سے سندھ طاس آبی معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کردیا ہے
بھارتی وزارت خارجہ کے سکریٹری وکرم مصری نے معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا، “1960 کا سندھ آبی معاہدہ اب سے اس وقت تک غیر نافذ العمل رہے گا، جب تک کہ پاکستان قابل اعتبار اور ٹھوس طور پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت سے دستبردار نہیں ہو جاتا
سندھ طاس معاہدے کے بارے میں ہم سکول ٹائم سے کتابوں میں پڑھتے چلے آرہے ہیں جس کی وجہ سے اکثرلوگ اس کے متعلق کسی حدتک معلومات رکھتے ہیں آج اس مضمون میں ہم سندھ طاس معاہدے کے بارے اپنے قارئین کوتفصیلی معلومات فراہم کریں گے۔
(Indus Water Treaty )سندھ طاس معاہدہ کی وجہ تسمیہ
سندھ طاس معاہدے کی وجہ یہ ہے کہ یہ معاہدہ جس دریاکے آبی وسائل کے گردگھومتاہے وہ دریائے سندھ ہے جوپورے سندھ طاس کامرکزی اور سب سے بڑادریاہے یہ معاہدہ صرف ایک دریانہیں بلکہ پورے سندھ دریاکے نظام پر مشتمل ہے جسے ہم سندھ طاس کہتے ہیں طاس یعنی وہ علاقہ جہاں کاپانی ایک ہی دریامیں جمع ہوتاہے طاس ایک جغرافیائی اصطلاح ہے جس کامطلب ہے وہ پوراعلاقہ جہاں بارش یاگلیشئرکاپانی بہتے بہتے آخرکارکسی ایک مرکزی دریامیں جاگرتاہے توسندھ طاس سے مرادوہ پوراعلاقہ جہاں کاپانی چھوٹے چھوٹے دریا،ندی نالے بہتے بہتے دریائے سندھ میں شامل ہوجاتے ہیں
سندھ طاس معاہدہ کیاہے؟
یہ مضمون سندھ طاس معاہدے کے بارے میں ہے۔ سندھ طاس معاہدہ پانی کی تقسیم کا ایک معاہدہ ہے جو بھارت اور پاکستان کے درمیان 1960 میں طے پایا۔ اس کی ثالثی عالمی بینک نے کی۔ یہ ایک اہم معاہدہ ہے اور اب تک کے سب سے کامیاب پانی کی تقسیم کے معاہدوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
پانی کی تقسیم
دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے پانی پر انحصار کرنے والے لوگ اسی طاس کے کنارے آباد ہیں۔ تاہم، اس طاس کے مختلف دریاؤں میں پانی کی دستیابی میں واضح فرق پایا جاتا ہے، اسی لیے انیسویں صدی کے آخر سے ہی ایسی آبپاشی کا بنیادی ڈھانچہ بنانے کی کوششیں کی گئیں جن میں لنک کینالز اور ہیڈ ورکس شامل تھے، تاکہ زائد پانی والے علاقوں سے کمی والے علاقوں تک پانی کی منتقلی ممکن بنائی جا سکے۔ یہ نظام زیادہ تر مشرقی دریاؤں یعنی راوی، ستلج اور بیاس تک محدود رہا اور ان ہی دریاؤں اور نہروں کے ساتھ ساتھ واقع علاقوں کو فائدہ پہنچا۔ آہستہ آہستہ ان نہروں کے ساتھ ایک زرخیز پٹی وجود میں آئی۔
تقسیم ہند کے وقت مسئلہ
تقسیم ہند کے وقت بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو سکا، کیونکہ ایک پیچیدہ صورتحال پیدا ہو گئی تھی جس میں دو بڑے ہیڈ ورکس یعنی فیروز پور اور مادھوپور بھارت میں واقع تھے جبکہ ان سے جڑی نہریں پاکستان میں تھیں۔ طویل مذاکرات کے بعد بالآخر 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا، جس کی ثالثی عالمی بینک نے کی۔ اگرچہ دونوں ممالک نے اس معاہدے میں پانی کی تقسیم کے حوالے سے اپنے ساتھ ناانصافی محسوس کی، تاہم یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان جنگوں اور کشیدگی کے باوجود پچھلے اٹھاون سال سے قائم ہے۔ اوڑی دہشت گردی کے واقعے کے بعد بھارتی حکومت نے اس معاہدے پر نظرثانی کا فیصلہ کیا تھا۔
دریائے سندھ کا تعارف
دریائے سندھ تبت کے بلند پہاڑوں (جنوب مغربی چین) سے نکلتا ہے، اور تبت، بھارت، پاکستان بشمول پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (PoK) سے گزرتا ہوا کراچی کے جنوب میں بحیرہ عرب میں جا گرتا ہے۔ اس کا کل فاصلہ 3180 کلومیٹر ہے۔ یہ دریا دھار ندی سے ہندوستان و چین کی سرحد کے قریب جڑتا ہے۔ جموں و کشمیر میں داخل ہونے کے بعد یہ دریا لداخ اور زنسکار کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان سے بہتا ہے۔ یہ دریا لداخ اور گلگت بلتستان کے علاقوں سے گزرتا ہے۔ جموں و کشمیر میں دریائے سندھ تقریباً 4000 میٹر کی بلندی پر بہتا ہے۔ یہ دریائے زنسکار سے لیہ میں اور سکردو (PoK) کے قریب دریائے شیوک سے جا ملتا ہے۔ اس کے دیگر ہمالیائی معاون دریاؤں میں گلگت، گارستانگ، دراس، ٹائیگر، اور ہنزہ شامل ہیں۔
سندھ طاس معاہدہ 1960
آزادی کے وقت بھارت اور پاکستان کے درمیان حد بندی لائن براہ راست سندھ طاس کے بیچ سے گزری، جس سے پاکستان کو نچلا حصہ ملا۔ مزید یہ کہ دو اہم آبپاشی ہیڈ ورکس، ایک مادھوپور (راوی) اور دوسرا فیروز پور (ستلج) بھارت میں رہ گئے، جن پر پاکستان کے پنجاب کی نہری آبپاشی کا مکمل انحصار تھا۔ یوں دونوں ممالک کے درمیان موجودہ سہولتوں سے پانی کے استعمال پر تنازع پیدا ہوا۔ بین الاقوامی تعمیر و ترقی کے بینک (عالمی بینک) کی ثالثی میں مذاکرات کے بعد بالآخر 19 ستمبر 1960 کو کراچی میں معاہدہ طے پایا۔ اس پر پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان، بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو، اور عالمی بینک کے نمائندے ڈبلیو اے بی ایلف نے دستخط کیے۔ یہ معاہدہ یکم اپریل 1960 سے مؤثر ہوا۔
معاہدے کی ابتدا
یہ معاہدہ نو سالہ طویل مذاکرات کے بعد طے پایا، جن کی قیادت سابق عالمی بینک کے صدر یوجین بلیک نے کی۔ یہ معاہدہ دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ اس نے بارہا کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کو ایک مؤثر فریم ورک دیا۔ سابق امریکی صدر آئزن ہاور نے اسے ایک “مایوس کن دنیا میں روشن مثال” قرار دیا تھا۔
اس معاہدے کے تحت مغربی دریا یعنی سندھ، جہلم، اور چناب پاکستان کو دیے گئے جبکہ مشرقی دریا یعنی راوی، بیاس اور ستلج بھارت کو الاٹ کیے گئے۔ تاہم معاہدہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے دریاؤں پر کچھ حد تک استعمال کی اجازت دیتا ہے۔
معاہدے کا طریقہ کار
معاہدہ ایک مستقل کمیشن کے قیام کا اہتمام کرتا ہے جو دونوں ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس میں مختلف نوعیت کے اختلافات کو حل کرنے کے لیے درج ذیل طریقہ کار شامل ہے:
“سوالات” کو کمیشن حل کرتا ہے
“اختلافات” کو غیر جانبدار ماہر سے حل کرایا جاتا ہے
“تنازعات” کو سات رکنی ثالثی عدالت کے سپرد کیا جاتا ہے
عالمی بینک کا کردار محض رسمی اور طریقہ کار سے متعلق ہے۔ وہ صرف اختلاف یا تنازع کی صورت میں متعلقہ ماہرین یا عدالتی سربراہ کی تقرری میں کردار ادا کرتا ہے۔
مشرقی دریاؤں پر بھارتی منصوبے
اپنے مختص شدہ مشرقی دریاؤں کے پانی کو استعمال میں لانے کے لیے بھارت نے درج ذیل ڈیم تعمیر کیے:
ستلج پر بھاکڑا ڈیم
بیاس پر پونگ اور پنڈوہ ڈیم
راوی پر تھیئن ڈیم
اس کے علاوہ بیاس-ستلج لنک، مادھوپور-بیاس لنک اور اندرا گاندھی نہر منصوبے کے ذریعے بھارت تقریباً مکمل طور پر اپنے حصے کا پانی استعمال کر رہا ہے۔ تاہم اب بھی راوی سے تقریباً 20 لاکھ ایکڑ فٹ پانی پاکستان میں بہہ رہا ہے۔
اس پانی کو بھارت میں استعمال کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے گئے:
شاہ پور کانڈی منصوبہ: تھیئن ڈیم سے نکلنے والے پانی کو جموں و کشمیر اور پنجاب میں آبپاشی اور بجلی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
اوجھ کثیر المقاصد منصوبہ: راوی کے معاون دریا اوجھ پر پانی ذخیرہ کر کے اسے آبپاشی اور بجلی کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔
دوسرا راوی-بیاس لنک: راوی سے فالتو پانی کو بیاس بیسن میں منتقل کرنے کے لیے ایک بیراج اور سرنگ کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
ان منصوبوں سے بھارت کو سندھ طاس معاہدے کے تحت مختص پانی مکمل طور پر استعمال کرنے میں مدد ملے گی۔
دو پن بجلی منصوبوں پر اختلاف
کشن گنگا (330 میگا واٹ) اور رٹل (850 میگا واٹ) پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن پر بھارت اور پاکستان کے درمیان اختلاف ہے۔ کشن گنگا منصوبہ 2018 میں مکمل ہوا، جبکہ رٹل منصوبہ زیر تعمیر ہے۔ دونوں منصوبے بھارت میں جہلم اور چناب کے معاون دریاؤں پر واقع ہیں، جو معاہدے کے مطابق پاکستان کو دیے گئے مغربی دریا ہیں۔ معاہدے کے تحت بھارت کو ان دریاؤں پر بجلی کے منصوبے بنانے کی اجازت ہے، تاہم کچھ شرائط کے ساتھ۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان منصوبوں کے ڈیزائن معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
عالمی بینک کی مداخلت
12 دسمبر 2016 کو عالمی بینک کے صدر جم یونگ کم نے دونوں فریقین کی درخواست پر ثالثی اور غیر جانبدار ماہر کے عمل کو فی الحال مؤخر کر دیا تاکہ معاہدے کی روح برقرار رکھی جا سکے۔ اس کے بعد کئی اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ہوئیں، لیکن پانچ سال کی کوششوں کے باوجود کوئی حل نہ نکل سکا۔ بالآخر 31 مارچ 2022 کو عالمی بینک نے غیر جانبدار ماہر اور ثالثی عدالت کے سربراہ کی تقرری کا عمل دوبارہ شروع کر دیا۔
سندھ طاس کا نظام دریائے سندھ، جہلم، چناب، راوی، بیاس اور ستلج پر مشتمل ہے۔ اس طاس کو بھارت اور پاکستان مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں جبکہ چین اور افغانستان کا بھی معمولی حصہ اس میں شامل ہے۔ 1960 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت راوی، بیاس اور ستلج کے تمام پانی بھارت کو مختص کیے گئے۔ سندھ طاس معاہدہ ایک تاریخی اور کامیاب آبی معاہدہ ہے جو بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم کا دیرپا حل پیش کرتا ہے
بھارت کی طرف سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس آبی معاہدے کی منسوخی کے اثرات
اگر بھارت اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر منسوخ کرتا ہے تو اس کے کئی اہم اور سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
علاقائی کشیدگی میں اضافہ
یہ اقدام جنوبی ایشیا میں پہلے سے موجود تناؤ کو شدید تر کر دے گا۔ پاکستان اسے پانی پر “آبی جارحیت” تصور کرے گا جو امن معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہوگی، اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی
یکطرفہ منسوخی بین الاقوامی قوانین اور معاہدات کی خلاف ورزی ہوگی، کیونکہ سندھ طاس معاہدہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک بائنڈنگ معاہدہ ہے۔ اس کے نتیجے میں بھارت کو عالمی برادری کی جانب سے تنقید کا سامنا ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی زرعی معیشت پر اثرات
پاکستان کی زراعت کا بڑا انحصار ان دریاؤں کے پانی پر ہے۔ اگر بھارت پانی روکنے کی کوشش کرے گا تو پاکستان میں فصلیں متاثر ہوں گی، خوراک کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، اور کسانوں کو نقصان ہوگا۔
پانی کے ذخائر پر دباؤ
پانی کی فراہمی متاثر ہونے سے پاکستان کے آبی ذخائر جیسے تربیلا اور منگلا ڈیم دباؤ کا شکار ہوں گے۔ بجلی کی پیداوار میں بھی کمی آسکتی ہے جس سے توانائی بحران جنم لے سکتا ہے۔
سفارتی محاذ پر بھارت کی ساکھ متاثر ہوگی
معاہدہ ختم کرنا بھارت کی ایک غیر ذمہ دار ریاست کے طور پر پہچان قائم کرے گا جو اپنے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری نہیں کرتا، اور اس کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔
عالمی ثالثی کا امکان
پاکستان اس معاملے کو بین الاقوامی عدالت انصاف یا عالمی بینک کے پاس لے جا سکتا ہے، جو اس معاہدے کا ضامن ہے۔ اس سے معاملہ عالمی سطح پر اُٹھ سکتا ہے اور بھارت کو قانونی پیچیدگیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔
پاکستان نے سندھ طاس آبی معاہدے کی یکطرفی معطلی کو آبی جارحیت قراردے دیا
اسلام آباد۔24اپریل (اے پی پی):نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بھارت کو چیلنج کیا ہے کہ اگر اس کے پاس بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں وکشمیر میں ہونے والے حملے میں پاکستان کے مبینہ ملوث ہونے کے ثبوت ہیں تو پیش کرے۔
وہ جمعرات کو یہاں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ بھی موجود تھے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سیاسی اور عسکری قیادت نے اہم فیصلے کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی الزامات اور فیصلے غیرذمہ دارانہ ہیں، بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا یکطرفہ اقدام کسی بھی طور قبول نہیں، بھارت ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ عالمی بینک اس معاہدے میں ثالث ہے اور معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کئے جانے کی کوئی شق شامل نہیں ہے۔
–
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے کہا کہ اس معاہدے پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالنا، پانی کو موڑنا یا پانی بند کرنے کے عمل کو قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ میں اقدام جنگ قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کچھ ایسا کرتا ہے جو بھی ضروری اقدام اٹھانا ہو گا پاکستان اٹھائے گا۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارتی حکومت کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے، بھارت بنا شواہد کے الزام تراشی کررہا ہے۔ نائب وزیراعظم نے خبردار کیا کہ پاکستان کے جائز حصے کے پانی کو روکنے یا موڑنے کی کسی بھی کوشش کا پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کے بھارتی اعلان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے جنگ کے مترادف قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والے سندھ آبی معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان پرامن تعاون کی ایک نادر مثال سمجھا جاتا ہے۔
محمد اسحاق ڈار نے زور دے کر کہا کہ معاہدے میں یکطرفہ معطلی کی اجازت دینے والی کوئی شق نہیں ہے، انہوں نے بھارت کے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ نائب وزیر اعظم نے پاکستان کے جوابی اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اٹاری واہگہ بارڈر کو فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے اور تمام سرحد پار آمدورفت معطل کر دی گئی ہے اور 30 اپریل تک درست توثیق کے حامل افراد واپس جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سارک ویزا استثنیٰ سکیم کے تحت بھارتی شہریوں کو جاری کئے گئے تمام ویزے منسوخ کردیئے گئے ہیں، سوائے سکھ مذہبی یاتریوں کے جو عارضی طور پر پاکستان میں رہ سکتے ہیں۔
سندھطاسمعاہدہ #پانیکاتنازعہ #بھارتپاکستانتعلقات #آبیجنگ #دریاؤںکیتقسیم #انڈسواٹرٹریٹی #پاکستانکیزراعت #بینالاقوامی_معاہدے #WaterCrisis #IndusWatersTreaty #IndiaPakistanConflict #RiverDispute #UnilateralCancellation #SouthAsiaWaterIssue