
تعلیم نامہ کے پروفائل انٹرویو کے سلسلے میں ہمارے آج کے مہمان ایک سرکاری سکول کے پرنسپل ہیں میری مراد ممتاز ماہر تعلیم حافظ زبیراحمد ہیں جوکہ گورنمنٹ سینیٹینل ماڈل ہائی سکول نمبر3مردان کے پرنسپل کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ صوبائی تھنک ٹینک، سکولز آفیسر زایسوسی ایشن،ایجوکیشن کونسل مردان کے پلیٹ فارم سے محکمہ تعلیم کے تمام ملازمین وافسران حقو ق کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں اس کے علاوہ اپنے کالموں اور مضامین کے ذریعے بھی مختلف مسائل کی نشاندہی او ران کے حل کے لیے تجاویز پیش کرتے رہتے ہیں (انٹرویونگارحافظ سرفرازخان)
تعلیم نامہ:اپنے بارے میں کچھ بتائیں؟
حافظ زبیر احمد: میرانام حافظ زبیراحمد ولد الحاج حافظ محمد یوسف ہے 3جنوری 1969 کوپارہوتی محلہ حافظان مردان میں پیدائش ھوئی
ابتدائی تعلیم ناظرہ حفظ القران تجوید اپنے والد گرامی سے مکمل کی اور کلاس چہارم میں یہ سارے کورسز اپنے والد ماجد سے پڑھے۔ میرے والد صاحب اس زمانے میں استاد الحفاظ کے طور پر شہرت رکھتے تھے کیونکہ پورے مردان شہر میں صرف 3 یا 4 حفاظ تھے جو اس پاکیزہ سلسلے کو آگے بڑھانے میں لگے ھوئے تھے میرے والد صاحب کی وجہ سے ھم چار بھائیوں کو بھی اللہ نے قران کریم کی اس عظیم دولت سے نوازا اور ہمارا پورا خاندان تقریبا” 90 فیصد حفاظ پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے ھمارا محلہ حافظاں اور حافظ آباد کے نام سے موسوم ہے۔ 1976 میں میرے والدین نے 2 مرلے مسجد کیلئے جگہ قطعہ زمین خرید لی اور میرے بڑے بھائی مولانا حافظ حسین احمد صاحب جو کہ مولانا مفتی محمود اور مولانا عبدالحق کے بہت قریب تھے کے حوالے کردی کہ اس پر مسجد بنانے کے انتظامات کرو۔ انہوں نے اپنے دونوں اکابرین سے مشورہ کرکے ان کی ھدایت پر 2 کی بجائے 4 مرلے کی زمیں خرید لی اور اسی پر مسجد بنا کر مدرسہ تحفیظ القران کی ببناد رکھی جو بعد میں اس کی ایک کنال تک توسیع ھوئی اور بہت قلیل عرصے میں اس مدرسے سے ھزاروں لوگ مستفیض ھوئے چنانچہ میرے لئے ایک سازگار ماحول پہلے سے والد صاحب کی برکت سے فراھم تھا۔ تو دینی علوم وہاں سے پڑھے۔
تعلیم نامہ:عصری علوم کن اداروں سے حاصل کیے:
حافظ زبیر احمد: گورنمنٹ پرائمری سکول شرقی ہوتی سے پانچویں تک تعلیم حاصل کی اور گورنمنٹ ھائی سکول نمبر 4 مردان سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ آٹھویں کلاس کے بورڈ امتحان میں پورے ضلع کو ٹاپ کیا اور پھر 1985 میں میٹرک میں بھی ٹاپ کیا۔ 1986 سے 1989 تک گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مردان سے انٹر اور گریجویشن تک تعلیم مکمل کی۔ پوسٹ گریجویشن پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں پاس کیا اور علامہ اقبال اوپن یورسٹی کے انگریزی لسانیات کے پہلے بیج سے پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ PGD TEFL حاصل کیا اس کے ساتھ سائیکالوجی میں ماسٹرز سپیشلسٹ ڈپلومہ کیا۔
تعلیم نامہ:ملازمت کاآغاز کب اور کس پلیٹ فارم کیا؟
حافظ زبیر احمد: تعلیم سے فراغت کے بعد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں انگلش کے لیکچرار کی حیثیت سے جوائن کیا اور دعوہ اکیڈمی اسلام آباد میں بھی اپنی خدمات انجام دیتا رہا۔ 1996 میں پبلک سروس کمیشن خیبرپختونخوا سے انگلش سبجیکٹ سپیشلسٹ کی حیثیت سے میری تعیناتی ہوئی۔ اور والد صاحب کے حکم پر جوائن کیا کیونکہ میری والدہ فوت ھوچکی تھی۔اور گھر سنبھالنے والا کوئی اور نہیں تھا اسلئے مردان آنا پڑا۔یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ایک ہی وقت میں میری تین تعیناتیوں کی سفارش ہوئی فیڈرل پبلک سروس کمیشن سے لیکچرار اور کے پی پبلک سروس کمیشن سے ایک لیکچرار اور ایک ایس ایس کی تعیناتی ہوئی والد صاحب نے استخارہ کرکے مجھے ایس ایس کی پوسٹ جوائن کرنے کا حکم دیا۔اس کے ساتھ اپنی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور سٹی یونیورسٹی پشاور میں ایم فل کا طالبعلم بھی بنا اور ساتھ میں بطور لیکچرار بھی 3 سال تک خدمات انجام دیں۔ PhD بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے تکمیل کے مراحل میں ہے۔
تعلیم نامہ:تدریس اور پروفیشنل ٹریننگ کے شعبے میں اپنی خدمات کے متعلق ہمارے قارئین کو کچھ بتاناپسند کریں گے؟
حافظ زبیراحمد: میں نے اپنی سروس کے دوراں بہت سارے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پوسٹ گریجویٹ کلاسز کو پڑھایا۔ انگلش لینگویج اور IELTs اور TOEFL پڑھانے کیلئے اکیڈمی کو 15 سال تک چلایا جس سے کافی نوجوان مستفیض ہو کر اپنے تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھانے کیلئے یورپی ملکوں اور آسٹریلیا میں ویزہ حاصل کرکے اپنی اعلی تعلیم مکمل کی جس پر مجھے بھی بہت فخر ہے یہاں ایک اور ہم بات بھی بتاتا چلوں کہ 2000 میں میں نے سی ایس ایس کا متحان بھی پہلے ہی attempt میں پاس کیا لیکن جنرل مشرف نے CUT لگا کر ھمارے لئے دروازے بند کردیے اور یوں سول سروس اکیڈمی جوائن نہیں کرسکا۔ اس کے بعد تدریس وتعلیم کیلئے اپنی توانائیاں وقف کردیں اور ٹیچرز ٹریننگ کے ریسورس پرسن کے طورپر GIZ, برٹش کونسل، IMSciences, آغا خان یونیورسٹی کے اعلی سطحی فورم پر اپنے محکمہ تعلیم کی نمائندگی کی۔ اور یہاں پر بھی ڈی پی ڈی اور DCTE کے ساتھ ملکر کئی ٹریننگ Modules, Manuals کے بنانے میں شریک کار رہا۔ اور انہی فورمز سے کئی book review میں بھی حصہ لینے کا موقع ملا جس نے میرا شوق تعلیم کو اور بھی جلا بخشی۔ اس کے علاوہ دو بار مردان بورڈ کے منتخب ممبر BOG کااعزاز بھی حاصل رہامحکمہ تعلیم کے صوبائی تھنک ٹینک کے سیکریٹری کے طور پر اپنی تجاویز اور سفارشات سے محکمہ کے حکام کو آگاہ کرتا رہتاہوں۔
تعلیم نامہ:کیاسرکاری سکولوں کے معیارتعلیم سے مطمئن ہیں؟
حافظ زبیر احمد:جہاں تک سرکاری سکولز میں تعلیم کے معیار سے مطمئن ہونے کا تعلق ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس میں بہت سارے عوامل کار فرما ہوتے ہیں جہاں بحیثیت سکولز سربراہ کا کردار ہے وہاں تو الحمد للہ میں اسلئے مطمئن ہوں کہ میں خود اپنی منصوبہ بندی اور حکمت عملی بنا تاہوں اور کامیابی کی کوششیں کرتا ہوں لیکں حکومتی پالیسیوں میں بار بار بلا وجہ تبدیلیوں اور نئے نئے تجربات نے تعلیمی معیار کی ترقی کی رفتار کو سست کردیا ہے۔ جہاں اساتذہ کو غیر ضروری ایسے معاہدات کاپابند بنا دیا گیا ہے کہ وہ بچوں کو روحانی باپ کے طورپرکماحقہ تربیت دینے سے پیچھے ھٹنے پر مجبورہوگئے ہیں۔ اپنی عزت نفس کو بچانے کی خاطر انہوں نے تربیت کے بجائے صرف پڑھائی پر اپنی توجہ مرکوز کردی ہے حالانکہ تربیت کے بغیر تعلیم وتدریس کا عمل کبھی مکمل نہیں ہوسکتا۔ لیکں ھمارے تعلیمی اداروں سے وہ مناسب ماحول چھیں لیا گیاہے جس میں رہ کر پڑھائی کے ساتھ ساتھ تربیت کا عمل مکمل کیا جاسکیں اس حوالے سے ارباب اقتدارکو ضرورغورکرناچاہیے۔ تعلیمی عمل سے مطمئن ھونے کا ایک پہلو یہ بھی کہ اگر سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی اچھی نہ ھوتی تو اس صوبے میں شرح خواندگی 57 فیصد تک ترقی نہ کرتی لیکن جہاں استاد بے بس ہے اور ارباب اقتداراپنی ذمہ داری بھی اس طریقے سے ادانہیں کررہے۔اگرمجموعی ملکی تعلیمی صورت حال کاجائزہ لیں پتہ چلتاہے کہ ملک عزیز پاکستان میں 49 اضلاع ایسے ہیں جہاں 60 فی صد یا اس سے سے زیادہ خواتین ناخواندہ ہیں پاکستان کے 42 اضلاع ایسے ہیں جہاں 50 فی صد بچیاں پرایمری سکولوں میں داخل ہی نہیں اور یہ وہ اضلاع ہیں جہاں غربت کی شرح زیادہ ہے۔
ان اضلاع میں مکمل مفت تعلیم اور مختلف مراعات مثلاً سکالر شپ یا تمام طلبہ کو خوراک وغیرہ کی فراہمی کے ذریعے سے ہی ان غریب بچوں اور بچیوں کو سکول میں داخلے کے لیے آ مادہ کیا جاسکتا ہے لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس پر ابھی قابو پانا ممکن نہیں نظر نہیں آتا
تعلیم نامہ:ایجوکیشن کونسل کے قیام کاکیامقصدہے؟
حافظ زبیر احمد:چونکہ میں ایک سرکاری سکول پرنسپل ہوں اس لیے سکولزآفیسرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخواسے میرا تعلق ہے اور اپنے ضلع کی سطح پر خدمت کرنے کی غرض سے تمام تنظیموں کو اکھٹا کرکے ایجوکیشن کونسل کا پلیٹ فارم بنا یاہواہے جس میں چیئرمین کی حیثیت سے اپنی خدمات سرانجام دے رہاہوں۔ میں یہ سمجھتاہوں کہ تمام تنظیموں کا ملکر تعلیمی ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ناگزیر ہے ورنہ مختلف ڈونرز نے اس کے ڈھانچے کا حلیہ بگاڑدیاہے اور یہ تب ممکن ہے کہ اپنے ذاتی اختلافات بھلا کرمل بیٹھیں اس محکمہ کا ہم تمام تنظیموں پر یہ قرض ہے اور یہ قرض چکاناہم سب پر فرض ہے
ایک سرکاری تعلیمی ادارے کو بہتر طور پر چلانے کیلئے بس اتنا کریں کہ اس کے سربراہ اور اساتذہ پر اعتماد رکھیں۔ ان کی سفارشات پر عمل کروائیں والدیں کو پابند بنانے کیلئے قانون سازی کریں کہ وہ دلچسپی لیں یقیں کریں کہ یہ ایک بہت اھم مسئلہ ھے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کے بچوں کے والدین اپنے بچوں کی سکولنگ میں دلچسپی نہیں لے رہے۔ اساتذہ کو تدریس کے علاوہ باقی محکموں کے کاموں سے دور رکھیں ڈیٹا کے نام پر سکولز سربراھان کو کلاسرومز سے باھر رکھا جارہاہے۔ خدارا!ان امور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تمام سکولزہمارے ادارے ہیں او رہم تمام سکولزسربراہان او راساتذہ اپنے آپ کو اللہ کے سامنے بھی اور دنیا کے سامنے بھی خود کو جوابدہ سمجھتے ہیں۔
Sarfaraz Khan Tareen is an energetic person and always playing the role of a positive teacher and promotor. He promotes inspirational figures working for the uplift of educational system, especially the public sector.
Thank you very much sir for your kind words. I truly appreciate your thoughtful message. It is always my goal to contribute positively to education and to highlight the inspiring efforts of those working for its betterment, especially in the public sector. Your encouragement means a lot.