قاضی جاوید پرنسپل گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول نوردی

قاضی جاوید — ایک شفیق استاد اور معتبر شخصیت
ہری پور کی علمی و سماجی فضا میں اگر کسی نام کی گونج محبت، وقار اور خدمت کے مترادف ہے تو وہ ہے **قاضی جاوید ا**، پرنسپل گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول نوردی۔
سادگی، خوش مزاجی اور خوش اخلاقی ان کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ آپ کا تعلق تربیلا ڈیم کے متاثرین کی بستی **کھلابٹ ٹاؤن شپ** سے ہے، جہاں آپ کا خاندان دینی و دنیاوی ہر دو حوالوں سے ایک نمایاں اور معتبر مقام رکھتا ہے۔

2013 میں ترقی پاکر **ہیڈماسٹر** کے عہدے پر تعینات ہوئے اور گورنمنٹ ہائی اسکول مچھاں داں میرا ہری پور میں اپنی انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ 2018 میں تبادلہ ہو کر گورنمنٹ ہائی اسکول دوبندی پہنچے، جہاں 2024 تک خدمات انجام دیں۔
یکم جون 2024 کو مزید ترقی پا کر **پرنسپل (BPS-18)** گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول نوردی کے منصب پر فائز ہوئے۔
**اختتامِ خدمت**
قاضی جاوید اقبال، جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ علم کی شمعیں روشن کرنے میں صرف کیا، 31 دسمبر 2025 کو اپنی مدتِ ملازمت مکمل کر کے تدریسی دنیا سے رخصت ہوں گے۔
ان کی یہ زندگی ایک ایسے معلم کی داستان ہے جس نے خاموشی سے، مگر مسلسل، علم بانٹا، کردار سنوارے، اور اپنے شاگردوں کے دلوں میں عزت و محبت کی صورت ایک لازوال یاد چھوڑ دی

آپ کے چچا اور سابق آئی جی اسلام آباد **قاضی جمیل الرحمٰن** کے والد گرامی، **مولانا حبیب الرحمٰن مرحوم** نے برصغیر کی ممتاز دینی درسگاہ **دارالعلوم دیوبند** سے سندِ فراغت حاصل کی۔ ضلع ہری پور کا گاؤں **ناڑہ** آپ کے خاندان کی ملکیت ہے۔
آپ کے بھائیوں میں **قاضی آفتاب** (ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر)، **قاضی نثار** (ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت، ریٹائرڈ) اور **ڈاکٹر قاضی اعجاز** (پرنسپل میڈیکل آفیسر، مانسہرہ) اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
چچازاد بھائی **قاضی جمیل الرحمٰن** پولیس اور خفیہ اداروں کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہنے کے بعد اس وقت بیرون ملک خدمات انجام دے رہے ہیں۔
**ابتدائی زندگی اور تعلیم**
یکم جنوری 1966 کو کھلابٹ گاؤں میں جنم لینے والے قاضی جاوید نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی۔ پانچویں جماعت کا امتحان **گورنمنٹ پرائمری اسکول ناڑہ** سے پاس کیا، اور پھر **گورنمنٹ ہائی اسکول تربیلا** سے 1981 میں میٹرک کی سند حاصل کی۔
اعلیٰ تعلیم کے لیے آپ نے خیبر پختونخوا کے ممتاز ادارے **اسلامیہ کالج پشاور** کا انتخاب کیا اور 1986 میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔
تعلیم کے سفر کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے 1987 میں آئی ای آر پشاور سے بی ایڈ اور 1992 میں ایم ایڈ کی ڈگری بھی حاصل کی۔
**تدریسی و انتظامی خدمات**
1990 میں محکمہ تعلیم میں بطور **ایس ای ٹی (سائنس)** گورنمنٹ ہائی اسکول ککوتری سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا۔ بعد ازاں گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول بیڑ اور گورنمنٹ ہائی اسکول سیکٹر نمبر 4 کھلابٹ ٹاؤن شپ میں سائنس ٹیچر کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔
تعلیمی حلقوں اور شاگردوں میں آپ ایک محنتی، سنجیدہ اور قابل استاد کے طور پر پہچانے جاتے ہیں — اور یہی کسی استاد کی زندگی کا اصل سرمایہ ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *