ہری پوراین اے 18 ضمنی الیکشن اورنصف صدی کی پارلیمانی تاریخ تحریروتحقیق حافظ سرفراز خان ترین
ہری پور کی سیاست ہمیشہ سے خیبر پختونخوا کی پارلیمانی سیاست میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ یہ ضلع سیاسی بصیرت، انتخابی جوش، اور شخصی اثرورسوخ کے اعتبار سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کے عوام کی سیاسی وابستگیاں وقت کے ساتھ بدلتی رہی ہیں، مگر سیاست کا محور ہمیشہ قومی سطح کے بڑے رہنما ہی رہے۔ موجودہ ضمنی انتخاب بھی انہی تاریخی تسلسلوں کا حصہ ہے۔ حلقہ این اے 18 ہری پور کی نشست پاکستان تحریک انصاف کے سابق جنرل سیکرٹری اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف عمر ایوب خان کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی ہے، جس پر 23 نومبر 2025 کو ضمنی الیکشن ہوگا۔
یوں تو متعدد امیدوار میدان میں ہیں، مگر اصل مقابلہ ایک بار پھر دو سیاسی خانوادوں کے درمیان ہے — ایک جانب پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار شہرنار عمر ایوب خان اور دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بابر نواز خان۔
پاکستان میں ون مین ون ووٹ کی بنیادپر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا باقاعدہ آغاز1970میں ہواہری پور اور مردان کی قومی اسمبلی کی مشترکہ نشست این ڈبلیو 11سے سردارقیوم خان 38305ووٹ لیکر ایم این اے منتخب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل پاکستان مسلم لیگ کنونشن کے سردار بہادرخان نے 22335 ووٹ،پیپی پی کے سردار محمد اسلم نے 12342ووٹ،جماعت اسلامی کے سردار اسد الحق نے 4841ووٹ،جمعیت علماء اسلام کے قاضی محمد نواز خان نے 2672 ووٹ حاصل کیے صوبائی اسملبی کی نشست پی یف 16سے راجہ سکندر زمان خان پاکستان مسلم لیگ قیوم کے ٹکٹ پر 25054ووٹ لیکر ایم پی اے منتخب ہوئے ان کے نزدیک ترین امیدوارپاکستان مسلم لیگ کنونشن کے اخترایوب خان نے 14805جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے میجر ریٹائر فضل احمد نے 7694ووٹ حاصل کیے۔
1977کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 13ہریپور سے پاکستان نیشنل الائنس کے گوہرایوب خان 40071ووٹ لیکر ایم این اے منتخب ہوئے جبکہ ان کے قریب ترین حریف پاکستان پیپلز پارٹی کے اخترنوازخان آف درویش نے 33142ووٹ حاصل کیے۔پاکستان نیشنل الائنس نے بھٹوحکومت پر دھاندلی کے الزامات لگاکرصوبائی اسمبلی کے الیکشن کے بائیکاٹ کااعلان کردیا جس کے بعد پیپلز پارٹی کے تمام امیدواران باآسانی کامیاب ہوگئے ہری پور کے صوبائی حلقہ پی ایف 40سے پی پی پی کے اخترنوازخان 16700 ووٹ لیکرکامیاب قرارپائے پی ایف 41سے پی پی پی کے راجہ امان اللہ خان 8101 ووٹ لیکرکامیاب قرارپائے اورپی ایف 42سے پی پی پی کے شوکت زمان خان 4715ووٹ لیکر ایم پی اے منتخب ہوگئے
1985کے غیر جماعتی انتخابات میں این اے 14ہری پور کی نشست پر گوہرایوب خان 48828ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل راجہ سکندر زمان نے 44371ووٹ لیے۔ پی ایف 39خان پورسے سلطان راجہ ایرج زمان 18562ووٹ لیکرکامیاب قرارپائے جبکہ ان کے قریب ترین حریف بیدارحسین شاہ نے 10446ووٹ حاصل کیے پی ایف 40سے میجر(ر)حبیب اللہ خان ترین 13836ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل اشرف خان ترین آف پانڈک نے 12472ووٹ حاصل کیے پی ایف 41سے راجہ امان اللہ خان 5281ووٹ لیکر ایم پی اے منتخب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل حاجی اشرف خان (والد افتخارخان سابق تحصیل ناظم وذوالفقاراحمد خان)نے 4156ووٹ حاصل کیے۔
1988کے انتخابات میں راجہ سکندرزمان خان60128 ووٹ لیکر این اے 13ہریپورسے ایم این اے متنخب ہوئے ان کے مدمقابل امیدوارپی پی پی کی بیگم بلقیس نصرمن اللہ نے 25066 ووٹ جبکہ عمراصغر خان نے 11816ووٹ لیے۔ صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایف 39پر اسلامی جمہوری اتحادکے راجہ سکندرزمان خان ہی 30125ووٹ لیکرکامیاب ہوئے ان کے مدمقابل پی پی پی کے چوہدری مختاراحمدنے 8103ووٹ لیے راجہ سکندر زمان نے صوبائی اسمبلی کی نشست سے استعفٰی دے دیا جس پر ضمنی الیکشن ہوا جس میں بیدار حسین شاہ جیت کر ایم پی اے منتخب ہوگئے حلقہ پی ایف 40سے آزادامیدواریوسف ایوب خان 18324ووٹ لیکر ایم پی اے منتخب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل اشرف خان آف پانڈک نے 14028ووٹ لیے پی ایف 41سے اسلامی جمہوری اتحادکے پیرصابر شاہ 9583ووٹ لیکر ایم پی اے منتخب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل اسلم حیات خان نے 6326ووٹ لیے
1990کے عام انتخابات میں این اے 13سے اسلامی جمہوری اتحادکے امیدوارگوہر ایوب خان 52293ووٹ لیکر ایم این اے منتخب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل پی ڈی اے کے عمر اصغر خان نے 30970ووٹ لییصوبائی اسمبلی کی نشست پی ایف 39خان پورسے اسلامی جمہوری اتحادکے راجہ سکندرزمان 30069ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل پی ڈی اے کے بیدارحسین شاہ نے 12151ووٹ لیے پی ایف 40سے اسلامی جمہوری اتحادکے حبیب اللہ خان ترین 30589ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل پی ڈی اے کے آصف قاضی نے 4614ووٹ لیے پی ایف 41سے اسلامی جمہوری اتحادکے پیر صابرشاہ 18146ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل آزادامیدوارامین خان بدھوڑہ نے 9905اورجمعیت علماء اسلام(ف)کے پیر سید عالمزیب شاہ نے 6552ووٹ لیے
1993کے عام انتخابات میں این اے 13کی نشست پر پاکستان مسلم لیگ (نواز)کے گوہر ایوب خان 69386ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل پاکستان اسلامک فرنٹ کے مولانا عبدالحق نے 26859ووٹ لیے صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایف 39پر پاکستان مسلم لیگ ن کے سردارمشتاق خان 24867ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل ڈاکٹرراجہ عامرزمان نے 23430ووٹ لیے پی ایف 40کی نشست پر آزاد امیدواریوسف ایوب خان 22002ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ ن کے بابرنوازخان آف پانڈک نے 19595ووٹ لیے پی ایف 41کی نشست پرمسلم لیگ ن کے پیر صابرشاہ 20164ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل اخترنوازخان آف کھلابٹ ٹاؤن شپ نے 17959ووٹ حاصل کیے
1997کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے امیدوار گوہر ایوب خان 73150ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے قریب ترین حریف خضرحیات خان آف جولیاں 11594ووٹ لیے
صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایف 39پرمسلم لیگ ن کے سردار مشتاق خان 24287ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل آزاد امیدوارڈاکٹرراجہ عامرزمان نے 22185ووٹ لیے پی ایف 40کی نشست پرمسلم لیگ ن کے یوسف ایوب خان نے 24763ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مدمقابل آزادامیدواربابرنوازخان آف پانڈک نے 12176ووٹ لیے پی ایف 41کی نشست پر مسلم لیگ ن کے پیر صابرشاہ 21673ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل اخترنوازخان نے 8646ووٹ لیے اکتوبر 1999میں جنرل پرویز مشرف نے ن لیگ کی حکومت ختم کرکے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی اس کے بعد
2002 عام انتخابات ہوئے جن میں قومی اسمبلی کی توایک ہی نشست برقراررہی جبکہ صوبائی اسمبلی کی 4نشستیں کردی گئیں ان انتخابات میں این اے 19کی نشست پرپاکستان مسلم لیگ (قائداعظم)کے امیدوار عمرایوب خان 81496ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل امیدواروں ن لیگ کے پیر صابرشاہ نے 61359،ایم ایم اے کے غلام نبی خان ایڈوکیٹ نے 30514،پی پی پی کے سردارعبدالروف ایڈوکیٹ نے 19902،مسلم لیگ جونیجوکے امیدوارشہریارخان نے 5956ووٹ حاصل کیے۔صوبائی اسمبلی کی
نشست پی ایف 49پر آزاد امیدوار راجہ فیصل زمان 30153ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے پی ایف 50کی نشست پر ق لیگ کے امیدوارقاضی محمد اسد خآن 22340ووٹ لیکر کامیاب قرارپائے جبکہ ان کے مدمقابل ن لیگ کے یوسف ایوب خان نے 16056اورایم ایم اے کے ملک عبدالجلیل نے 6830ووٹ لیے پی ایف 51سے آزاد امیدواراخترنوازخان 28143ووٹ لیکر کامیاب قرارپائے جبکہ ان کے مدمقابل ن لیگ کے امیدوار سردارمشتاق خان نے 19319ووٹ لیے پی ایف 52کی نشست پرق لیگ کے امیدوارفیصل زمان (جہازوں والاگروپ)26122ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ ن لیگ کے پیرصابرشاہ نے 14780 ووٹ لیے
2008کے عام انتخابات میں ن لیگ کے سردارمشتاق خان 98670ووٹ لیکر ایم این اے منتخب ہوئے ان کے مدمقابل آزادامیدوارراجہ عامرزمان نے 71254جبکہ ق لیگ کے امیدوارعمرایوب خان نے 50631ووٹ حاصل کیے صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایف 49پر ایم ایم اے کے راجہ فیصل زمان 27654ووٹ لیکر کامیاب قرارپائے جبکہ ان کے مدمقابل ن لیگ کے راجہ شیرازحیدرزمان نے 15353ووٹ لیے پی ایف 50کی نشست پرآزاد امیدوارقاضی محمداسدخان نے 25057ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مدمقابل آزادامیدوار ارشدایوب خان نے 21207اور پی پی پی کی ڈاکٹرفائزہ رشید نے 10465ووٹ حاصل کیے پی ایف51کی نشست پر آزاد امیدواراخترنوازخان نے 40492ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مدمقابل ن لیگ کے ذوالفقارخان ایڈوکیٹ نے 14049ووٹ اور ایم ایم اے کے شاہ ابراہیم نے 8183ووٹ لیے
پی کے 52کی نشست پرن لیگ کے امیدوارپیر صابرشاہ نے 22614ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مدمقابل ق لیگ کے فیصل زمان نے 21975ووٹ لیے
2013کے عام انتخابات میں ن لیگ کے امیدوار عمرایوب خان 117589ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی ان کے مدمقابل پاکستان تحریک انصاف کے ڈاکٹرراجہ عامرزمان نے 117045،جے یوآئی (ف)کے پیرسید عالمزیب شاہ نے 19591اورپی پی پی کے سردارمشتاق خان نے 16234ووٹ لیے لیکن دوبارہ گنتی میں راجہ عامرزمان کوکامیاب قراردیاگیااس کے بعد الیکشن ٹریبونل کے حکم پرجنوری2014میں سات حلقوں میں دوبارہ الیکشن ہواجس میں عمرایوب خان نے 2852ووٹ لیکرکامیابی حآصل کی جبکہ راجہ عامرزمان نے 2263ووٹ لیے اس طرح عمرایوب خان دوبارہ کامیاب قراردیے گئے راجہ عامرزمان نے اس فیصلے کے خلاف الیکشن ٹربیونل سے رجوع کیا لیکن شنوانی نہ ہوئی جس پر انھوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایاسپریم کورٹ نے الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ معطل کرکے پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کے احکامات جاری کردیے عمرایوب خان نے اپنی والدہ کی بیماری کے باعث ضمنی الیکشن میں حصہ لینے سے معذرت کرلی کہاجاتاہے کہ ن لیگ کی اہم مقامی شخصیات نے بھی ضمنی الیکشن میں حصہ لینے سے انکارکردیاجس کے باعث سابق صوبائی وزیراخترنوازخان کے فرزندبابرنوازخان کون لیگ کیٹکٹ پر الیکشن لڑنے پرآمادہ کیاگیااگست 2015میں ہونے والے اس ضمنی الیکشن میں ن لیگ کے امیدواربابرنوازخان نے 137227ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مدمقابل راجہ عامرزمان نے
90702ووٹ حاصل کیے 2013میں پی کے 49کی نشست پر ن لیگ کے راجہ فیصل زمان 28372ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ ان کے مدمقابل آزاد امیدوارراجہ اعجازاخترنے 19178اورپی ٹی آئی کے اخترنوازخان نے 10647ووٹ لیے پی کے 50کی نشست پر پی ٹی آئی کے یوسف ایوب خان 35117ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ ن لیگ کے امیدوارقاضی محمد اسدخان نے 32879ووٹ حاصل کیے اسی دوران ایک عدالتی فیصلے کی روشنی میں یوسف ایوب خان اپنی سیٹ سے محروم ہوگئے جس کی وجہ سے پی کے 50میں ضمنی الیکشن ہوا جس میں یوسف ایوب خان کے بھائی اکبرایوب خان قاضی محمد اسدخان اور بابرنواز خان میں کانٹے دارمقابلہ ہوا جس میں اکبرایوب خان کامیاب قرارپائے۔پی کے 51کی نشست پرآزادامیدوارگوہر نوازخان نے 50805ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مدمقابل ن لیگ کے امیدوارحاجی صادق خان نے 12794ووٹ لیے پی کے 52کی نشست پر پی ٹی آئی کے فیصل زمان 30263ووٹ لیکر کامیاب قرارپائے جبکہ مدمقابل ن لیگ کے امیدوارپیرصابر شاہ نے 25923ووٹ لیے
2018کے عام انتخابات میں ہری پور میں صوبائی اسمبلی کی نشستیں چارسے کم کرکے تین کردی گئیں ان انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوارعمرایوب خان نے 173125ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ ن لیگ کے امیدواربابرنوازخان نے 133158ووٹ لییصوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 40پرپاکستان تحریک انصاف کے امیدواراکبرایوب خان 52624ووٹ لیکرکامیاب قرارپائے جبکہ ان کے مدمقابل ن لیگ کے امیدوارقاضی محمد اسدنے 39422ووٹ لیے پی کے 41کی نشست پرپی ٹی آئی کے امیدوارارشدایوب خان نے 39775ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مدمقابل ن لیگ کے راجہ فیصل زمان نے 25774ووٹ لیے پی کے 42کی نشست پر آزاد امیدوارفیصل زمان نے 29519ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مدمقابل آزاد امیدوارگوہرنوازخان نے 23823اورن لیگ کے قاسم شاہ نے 17500ووٹ لیے.
8فروری 2024کوہونے والے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ تمام اُمیدواروں نے ضلع ہریپور سے قومی اور صوبائی اسمبلی تمام نشستیں جیت لیں حلقہ این اے 18ہری پورسے عمر ایوب خان نے 192948ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی ان کے نزدیک ترین حریف ن لیگ کے بابرنوازخان نے 112389ووٹ حاصل کیے دیگرامیدواروں میں ٹی ایل پی کے محمد صالح نے 12316,جے یوآئی (ف)کے حافظ محمد ایوب صدیقی نے 8942جبکہ جماعت اسلامی کے غزن اقبال خان نے 7804ووٹ حاصل کیے،حلقہ پی کے 46ہری پورسے اکبر ایوب خان 68835ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ ان کے مدمقابل سابق صوبائی وزیر قاضی محمد اسد نے 28327ووٹ حاصل کیے،پی کے 47ہری پورسے ارشدایوب خان 73038ووٹ لے کر ایم پی اے منتخب ہوئے جبکہ ان کے قریب ترین حریف سابق صوبائی وزیر راجہ فیصل زمان نے 34620ووٹ حاصل کیے،حلقہ پی کے 48 ہری پور+غازی سے ملک عدیل اقبال نے 41777ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مدمقابل گوہرنوازخان نے 21737ووٹ کیے۔
ہری پور کی انتخابی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ یہاں کے ووٹر ہمیشہ شخصیت، خدمت، اور سیاسی وفاداری کے امتزاج پر فیصلہ کرتے ہیں ۔ ہر انتخاب ایک نئے سیاسی موڑ کا تعین کرتا رہا ہے، لیکن عوام کی سیاسی شعور میں مسلسل پختگی بھی دیکھی گئی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ 23 نومبر 2025 کا یہ الیکشن ہری پور کی روایتی سیاست کو برقرار رکھے گا یا کوئی نیا سیاسی باب رقم کرے گا۔ ایک بات البتہ یقینی ہے کہ ہری پور کی سرزمین ایک بار پھر تاریخ رقم کرنے جا رہی ہے اور یہ تاریخ آنے والے کئی برسوں تک پاکستان کی قومی سیاست پر اپنے اثرات چھوڑے گی۔