
تحریر و تحقیق: محمد آصف خان، ہری پور
قومی نصاب اور ہماری نظریاتی سمت
دنیا بھر میں ہر ملک کا تعلیمی نصاب اس کے قومی مقاصد اور نظریاتی بنیادوں کے تحت تیار کیا جاتا ہے۔ کسی بھی قوم کی معاشی، سماجی اور سائنسی ترقی کا انحصار تعلیم کے نظام پر ہوتا ہے، لیکن اصل کامیابی تب ہی ممکن ہے جب ترقی اپنی قومی شناخت اور روایات کے دائرے میں رہ کر کی جائے۔ ہماری اقدار اسلامی اور مشرقی ہیں، لہٰذا ہمیں ترقی کی دوڑ میں شامل ضرور ہونا ہے، مگر ان اقدار کے تابع ہو کر۔ کیونکہ اگر کوئی قوم اپنی شناخت کھو دے، تو تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں صفحۂ ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔
نصاب تعلیم پر اثر انداز ہونے والی لبرل لابی
گزشتہ چند دہائیوں سے ایک مخصوص لبرل انتہا پسند لابی، غیر ملکی ڈونرز کے اثر و رسوخ کے تحت، پاکستان کے تعلیمی نصاب میں ایسی تبدیلیاں کروا رہی ہے جن کا مقصد ہماری اسلامی اقدار کو پسِ پشت ڈالنا ہے۔ اس لابی نے انتہائی منظم انداز میں نصاب سے اسلامی تعلیمات، قومی ہیروز، اور مشرقی روایات کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔
مثال کے طور پر، 16 مئی 2022 کو روزنامہ مشرق پشاور میں شائع ہونے والے ایک اداریے کے مطابق، خیبرپختونخواہ کی صوبائی کابینہ نے جماعت چہارم سے جماعت ہشتم تک آٹھ مضامین پر مشتمل ایک نیا نصاب نافذ کرنے کا فیصلہ کیا جس میں اسلامیات کا مضمون لازمی نہیں ہوگا، جب کہ کمپیوٹر کا مضمون چہارم جماعت سے شامل کیا جائے گا۔ بلاشبہ کمپیوٹر وقت کی اہم ضرورت ہے، لیکن اسلامیات کو غیر لازمی قرار دینا ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
اسلامی تعلیمات کا اخراج: ایک سوچی سمجھی سازش
یہ پہلی بار نہیں کہ اسلامی تعلیمات کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ اس سے قبل بھی زبان کے مضامین (اردو، انگریزی، عربی) سے اسلامی اقدار اور اسلاف کے تذکرے کو نکالنے کا عمل شروع کیا گیا۔ جواز یہ دیا گیا کہ مذہبی مواد صرف اسلامیات میں ہونا چاہیے، نہ کہ زبان کی کتابوں میں۔ یہاں تک کہ جماعت اول کی اردو اور جماعت چہارم کی اسلامیات میں شامل حدیث مبارکہ “میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا” کا آدھا حصہ حذف کر دیا گیا۔
دس سال تک درد دل رکھنے والے مسلمان اس مسئلے پر آواز بلند کرتے رہے، عدالتوں سے رجوع کیا، اور بالآخر فروری 2021 میں پشاور ہائی کورٹ سرکٹ بینچ ایبٹ آباد نے فیصلہ دیا کہ اس حدیث مبارکہ کو مکمل طور پر بحال کیا جائے۔ اس واقعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ لابی کس حد تک مضبوط ہے اور ہمارے نظام تعلیم پر اس کا کس قدر گہرا اثر ہے۔
عربی زبان کا بحران اور اختیاری مضمون کا دھوکہ
اسی تناظر میں عربی زبان کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ پہلے عربی کا نصاب “فنکشنل عربی” سے تبدیل کر کے “لٹریری عربی” بنا دیا گیا، جو عام طلبہ اور بیشتر اساتذہ کے لیے نہ صرف مشکل تھی بلکہ تعلیمی سطح سے بھی بالاتر تھی۔ اس کے بعد عربی کو “آرٹ اینڈ ماڈل ڈرائنگ” جیسے غیر متعلقہ مضمون کے ساتھ اختیاری قرار دے دیا گیا۔
اس تبدیلی کے بعد بیشتر اسکولوں نے عربی کو ترک کر دیا اور بچوں کو آرٹ اینڈ ماڈل ڈرائنگ کی طرف راغب کیا۔ نتیجتاً ہم غیر محسوس طور پر قرآن کی زبان سے دور ہوتے چلے گئے، اور یہ سب کچھ ان منصوبہ سازوں کی خواہش کے عین مطابق ہوا۔
اسلامیات کو غیر لازمی قرار دینا: ایک نئی سازش
یہ امر باعثِ حیرت ہے کہ جماعت چہارم سے ہشتم تک اسلامیات کو لازمی مضمون نہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ طلبہ اور اساتذہ اس مضمون کو کم اہمیت دیں گے، جس کے نتیجے میں نئی نسل اپنے دین، عقائد اور اسلاف سے ناواقف ہو جائے گی۔ یہی وہ نتیجہ ہے جس کی خواہش ہمارے نظریاتی دشمن رکھتے ہیں۔
تعلیم کا ہدف: امتحان یا نظریہ؟
ہمارا تعلیمی نظام پہلے ہی “نمبروں کی دوڑ” کا شکار ہے۔ طلبہ اور اساتذہ کا زیادہ زور صرف امتحان پاس کرنے، نمبر لینے اور نتیجہ بہتر بنانے پر ہوتا ہے۔ ایسے میں جب اسلامیات اور عربی جیسے مضامین کو پیچھے دھکیلا جائے گا تو ان کا مقام مزید کم ہو جائے گا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم خود اپنے نظریاتی زوال کا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔
بیداری کی ضرورت اور امید کا پیغام
اس صورتحال میں ہمارے تعلیمی ماہرین، قومی ادارے، سیاسی رہنما اور دینی علماء کو جاگنا ہوگا۔ اگر ہم نے نظریاتی جنگ ہار دی تو باقی کچھ نہیں بچے گا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سازش کو پہچاننے، اس کے خلاف کھڑے ہونے اور اپنی نسلوں کو اسلامی تشخص کے ساتھ تعلیم دینے کی توفیق دے