پاکستان اور فن لینڈ کے تعلیمی نظام کا موازنہ: درجہ بندی، نصاب اور امتحانی نظام

"پاکستان اور فن لینڈ کے اسکول اور تعلیمی ماڈلز کا موازنہ"

پاکستان اور فن لینڈ کا تعلیمی موازنہ: درجہ بندی، نصاب اور امتحانی نظام
تحریر۔حافظ سرفرازخان ترین
کیا آپ جانتے ہیں کہ تعلیم کے حوالے سے عالمی درجہ بندی میں سرفہرست فن لینڈ میں پرائمری سطح پر باقاعدہ کوئی سلیبس نہیں اور نہ ہی کوئی باقاعدہ امتحان لیاجاتا ہے آپ اکثرپاکستان اورفن لینڈ کے تعلیمی نظاموں کے بارے بحث مباحثہ سنتے رہتے ہیں لیکن حقیقت میں پاکستان اور فن لینڈ کے تعلیمی نظام میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ فن لینڈ کا نظام دنیا بھر میں مثالی سمجھا جاتا ہے، جبکہ پاکستان ابھی تک بنیادی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم دونوں ممالک کی تعلیمی درجہ بندی، پرائمری سے سیکنڈری سطح تک کے نصاب، اور امتحانی نظام کا موازنہ کریں گے۔
اول: تعلیمی درجہ بندی
تعلیمی درجہ بندی کاجائزہ لینے کے لیے ہم نے ایک پی آئی ایس اے کاانتخاب کیاہے جوکہ (Programme for International Student Assessment)ایک بین الاقوامی تعلیمی معیار کا پروگرام ہے جسے OECD (Organisation for Economic Co-operation and Development)چلاتا ہے۔ یہ 15 سالہ طلباء کے ریاضی، سائنس اور خواندگی (پڑھنے کی صلاحیت) کے معیار کا جائزہ لیتا ہے۔
اس پروگرام کے اہم پہلووں مندرجہ ذیل ہیں
۱۔مقصد:
ا۔ دنیا بھر کے تعلیمی نظاموں کا موازنہ کرنا۔
ب۔ طلباء میں عملی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کی پیمائش کرنا۔
۲۔شرکاء:
ا۔ 80+ ممالک (بشمول فن لینڈ، چین، سنگاپور)۔
ب۔پاکستان نے 2018 میں پہلی بار حصہ لیا (78ویں نمبر پر رہا)۔
۳۔ٹیسٹ کا طریقہ کار:
ا۔ ہر 3 سال بعد ہوتا ہے۔
ب۔ صرف کاغذی امتحان نہیں بلکہ ڈیجیٹل ٹاسک اور عملی مسائل شامل ہوتے ہیں۔ ۴۔پاکستان کی کارکردگی: 2018 کے نتائج کے مطابق ریاضی میں پاکستان ۲۷ویں،سائنس میں ۶۷ویں،خواندگی میں ۸۷ویں نمبرپر رہاہے۔ اس کی وجوہات میں رٹہ سسٹم، کم معیارِ تدریس، اور بنیادی سہولیات کی کمی بیان کی جاتی ہیں۔ یہ پروگرام اس لیے اہم ہے کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کونسا ملک حقیقی زندگی کی مہارتیں سکھا رہا ہے۔ فن لینڈ اور چین (بیجنگ، شنگھائی) جیسے ممالک PISA میں مستقل ٹاپ پر ہیں، جو ان کے تعلیمی نظام کی کامیابی کی علامت ہے۔ الف) عالمی سطح پر کارکردگی فن لینڈ بین الاقوامی طالب علم معیار (پی آئی ایس اے) میں پہلے پانچ ممالک میں شامل ہے یونیسکو کے مطابق، خواندگی کی شرح ننانوے فیصد سے زیادہ ہے جبکہ ورلڈ اکنامک فورم کی تعلیمی معیار کی رینکنگ میں پہلے نمبرپرہے۔ پاکستان پی آئی ایس اے کے مطابق پاکستان ۸۷ویں نمبرپر جبکہ گلوبل ایجوکیشن کوالٹی انڈیکس کے مطابق پاکستان کانمبر۰۲۱سے بھی نیچے آتاہے۔ پاکستان میں خواندگی کی شرح ۲۶فیصد ہے۔ اسکول داخلہ اور ڈراپ آؤٹ شرح کاجائزہ لیاجائے تو پرائمری سطح پر فن لینڈمیں شرح داخلہ تقریباًسوفیصد اور ڈراپ آؤٹ کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے جبکہ پاکستان میں شرح داخلہ ۲۷فیصد اور ڈراپ آؤٹ کی شرح تقریباًچالیس فیصد ہے۔

دوم: نصاب اور کتابوں کا موازنہ
پاکستان میں پرائمری سطح (کلاس اول تا پنجم) پرپچاس کے قریب کتابیں (اردو، انگریزی، ریاضی، اسلامیات، سائنس،جنرل نالج،کمپیوٹر،ڈرائنگ) یہ سسٹم زیادہ تر رٹے پر مبنی ہے اس میں تصاویر اور عملی مشقیں کم ہوتی ہیں۔
فن لینڈکوئی باقاعدہ نصابی کتابیں نہیں اساتذہ اپنا مواد خود بناتے ہیں۔بچوں کو کھیل، مباحثے اور پروجیکٹس کے ذریعے پڑھایا جاتا ہے
ب) ایلیمنٹری اور سیکنڈری سطح (کلاس ششم تا دہم)
پاکستان میں اس سطح پر اردو، انگریزی، ریاضی، اسلامیات، سائنس،جنرل نالج،کمپیوٹر،ڈرائنگ،عربی،مطالعہ قرآن،تاریخ،جغرافیہ اور میٹرک کی سطح پر فزکس،کیمسٹری اور بائیو بھی پڑھائی اور یادکرائی جاتی ہے جبکہ فن لینڈ میں سائنس،آرٹس اور زبانیں سکھائی جاتی ہیں
سوم: امتحانی نظام
الف) فن لینڈ کا طریقہ
فن لینڈ میں پرائمری سطح پر کوئی باقاعدہ امتحان نہیں مسلسل تشخیص کے لیے اساتذہ روزانہ مشاہدہ کرتے ہیں جبکہ سیکنڈری سطح پربھی طلبہ پرانتہائی کم دباؤہوتاہے اور امتحانات تخلیقی صلاحیتوں پر مبنی ہوتے ہیں۔
ب) پاکستان کا طریقہ
پاکستان میں ہر سال دو سے تین امتحانات فرسٹ ٹرم،مڈٹرم اور فائنل ٹرم ہوتے ہیں اور ان میں بھی نمبروں اور گریڈکی دوڑ ہوتی ہے باالخصوص سیکنڈری سطح کے امتحان کی تیاری کے لیے اساتذہ اور طلبہ پر شدید دباؤ ہوتاہے۔

چہارم: پاکستان کیا سیکھ سکتا ہے؟
فن لینڈاور پاکستان کے نظام تعلیم کاموازنہ کرنے کے بعد ہم اس امر کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ کتابوں کے بوجھ کو کم سے کم کیاجائے۔رٹہ سسٹم کے بجائے عملی تعلیم پر توجہ دی جائے۔اساتذہ کی پیشہ وارانہ اور مضمون وار استعداد بڑھانے کے لیے تربیتی ورکشاپس کاانعقادکیاجائے سکولوں میں اساتذہ کی کمی پوری کی جائے اور تمام بنیاد ی سہولیات آئیڈیل کلاس روم،لیبارٹریزاور لائبریزفراہم کی جائیں بچوں پر امتحانی دباؤ کم کرنے کے لیے سالانہ امتحان پر انحصار کے بجائے مسلسل تشخیص کاطریقہ کاراپنایاجائے۔
نتیجہ
فن لینڈ کا تعلیمی نظام طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں ** پر کام کرتا ہے، جبکہ پاکستان کا نظام ابھی تک رٹہ اور امتحانات تک محدود ہے۔ اگر پاکستان بنیادی اصلاحات کرے تو وہ بھی تعلیمی میدان میں ترقی کر سکتا ہے۔
یہ آرٹیکل (PISA, UNESCO, WEF) سے حاصل کردہ اعداد و شمار کی روشنی میں تحریرکیاگیاہے۔
اگر آپ پاکستان کی تعلیمی بہتری کے خواہشمند ہیں، تو یہ آرٹیکل ضرور شیئر کریں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *