
written by Muhammad Asaf Khan retire education officer
خیبرپختونخوا میں حالیہ اور سابقہ پنشن اصلاحات نے ہزاروں سرکاری ملازمین کو معاشی طور پر بدحال کر دیا ہے۔ 2022 میں کی جانے والی اصلاحات کے بعد اب ایک بار پھر جولائی 2025 میں وفاقی حکومت کے نئے نوٹیفکیشن کی روشنی میں مزید کٹوتیوں کی تیاری ہے۔ یہ آرٹیکل ان ہی ناانصافیوں اور تضادات پر روشنی ڈالنے کی ایک کوشش ہے
۔ 2022 کی اصلاحات: پہلا معاشی وار جون 2022 میں اُس وقت کے صوبائی وزیر خزانہ تیمور جھگڑا نے اعلان کیا کہ پنشن اصلاحات کے ذریعے خزانے پر بوجھ کم کیا جا رہا ہے۔ مگر اس اعلان کے نتیجے میں: – ہزاروں ملازمین کی پنشن میں 30٪ کٹ لگا دی گئی۔ – ایڈہاک ریلیف کو تنخواہ کا حصہ تو بنایا، مگر پنشن سے خارج کر دیا گیا۔ – یکم جون 2022 کے بعد ریٹائر ہونے والے ملازمین کی پنشن واضح طور پر کم ہو گئی۔ ❝ اگر کوئی ملازم جون 2022 سے پہلے ریٹائر ہوا تو اس کی پنشن 90,000 تھی، اور جولائی 2022 کے بعد والے کی پنشن صرف 60,000! ❞ دوبارہ وہی ظلم: جولائی 2025 کا خطرہ اب خیبرپختونخوا حکومت دوبارہ وہی اصلاحات نافذ کرنے جا رہی ہے جو وہ پہلے کر چکی ہے۔ وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن پر عمل کرتے ہوئے ایک اور 30٪ کٹ کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ سوال اہم ہے:
کیا ایک صوبے پر دو بار ایک جیسا معاشی ظلم ہونا انصاف ہے؟ ملازم بمقابلہ ملازم: پولیس کا کردار جب سرکاری ملازمین پرامن احتجاج کرتے ہیں تو ان پر لاٹھی چارج، آنسو گیس اور ایف آئی آرز ہوتی ہیں — اور یہ سب ان کے اپنے بھائیوں یعنی پولیس ملازمین کے ہاتھوں! ❝ نوکر کی تے نخرا کی
❞ — بے بسی کی انتہا یہ ہے کہ ایک ملازم دوسرے ملازم پر حکم حاکم کے تحت ظلم کرتا ہے۔ اشرافیہ کے مراعات: کوئی کٹ نہیں! – وزراء، صدر، وزیراعظم تاحیات مراعات پاتے ہیں۔ – اراکینِ اسمبلی کی تنخواہوں میں 200٪ اضافہ ہوتا ہے۔ – بیرونی دورے، مفت علاج، لگژری گاڑیاں، سب کچھ موجود۔ مگر جب تنخواہ دار طبقے کو 10٪ اضافہ دیا جاتا ہے تو آئی ایم ایف ناراض ہو جاتا ہے، اور حکومتیں پیچھے ہٹ جاتی ہیں! سیاسی تضاد: بات کچھ، عمل کچھ! پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت وفاق کے خلاف پریس کانفرنس کرتی ہے، مگر انہی کی اصلاحات پر “آمنا و صدقنا” کہتی ہے
۔ یہ کیا دہرا معیار نہیں؟ ❝ وفاق کے خلاف احتجاج مگر وفاقی حکم پر عمل؟ ملازمین دشمنی میں سب ایک پیج پر! ❞ نتیجہ اور پیغام ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن ایک سرکاری ملازم کا بنیادی سہارا ہوتا ہے۔ 35 سے 40 سال کی خدمت کے بعد اگر اس سہارا کو بھی کاٹ دیا جائے، تو یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
📢 حکومت سے گزارش ہے کہ: – اس کٹوتی کو روکا جائے۔ – پہلے کی گئی اصلاحات کو ہی کافی سمجھا جائے۔ – اشرافیہ کی مراعات میں بھی کٹ لگایا جائے تاکہ اصل “بوجھ” کم ہو۔ کال ٹو ایکشن تمام سرکاری ملازمین، اساتذہ، وکلاء، اور سول سوسائٹی سے گزارش ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔ 👇 اپنے خیالات اور تبصرے نیچے شیئر کریں، اور اس مضمون کو سوشل میڈیا پر ضرور شیئر کریں تاکہ آواز حکمرانوں تک پہنچ سکے