پانچویں جماعت کے بعد ناخواندہ طلبہ: بنیادی خواندگی کا بحران اور حل

تحریروتحقیق۔ محمد آصف خان

جہان جاؤ، جدھر بیٹھو، جس جس سے ملو ایک ہی شکوہ ہے کہ پرائمری استاد کام نہیں کرتا، چھ سات سال بچہ پرائمری سکول میں گزار کر کورا ہی ہوتا ہے ایسا کیا ہے نہ استاد سمجھ پا رہا ہے نہ والدین کی فہم میں کچھ آتا ہے. بات یہاں تک نہیں آپ کالج کے استاد سے ملیں وہ کہتا پھرتا ہے کہ پرائمری سکول کے ساتھ سیکندری سکول کو بھی ملا کر کوسنا شروع کر دیتا ہے کہ سکول کیڈر سے بچہ بالکل کورا نکل کر آریا ہے سکول والے پڑھاتے نہیں ہم کیا کریں. مگر، اصل مسئلہ کو کوئی بھی تلاش نہیں کر پا رہا کہ خرابی ہے کیا، کہاں کہاں خرابی ہے اور اس کا سدباب کیسے ہو گا اور کیوں کر ممکن ہے. کہتے ہیں کہ ڈاکٹر مرض کی تشخیص درست کر لے تو اعلاج یقینی ہوتا ہے ورنہ یہ بات بھی امر ہے کہ بیماری کو نہ سمجھتے ہوئے دوا تجویز کرنے سے بیماری مزید بڑھے گی.
قصہ کچھ یوں ہے کہ ہائی سکول میں طلبہ کے سکول میں نئے داخلوں کے موقع پر ہم نے آنے والے پنجم پاس بچوں کو ٹیسٹ دینے کا فیصلہ کیا کہ جو بچے پبلک یا پرائیویٹ سیکٹرز سکولز سے جماعت ششم میں داخلہ لینے کے لیئے آ رہے ہیں ان کے تعلیمی معیار کو پرکھا جائے. بچوں کو ٹیسٹ دیا جائے. یہ ٹیسٹ “بیس لائین اسسمنٹ” بھی ہو گا جس کو بنیاد بنا کر جماعت ششم میں تعلیم و تعلم کا سلسلہ شروع کیا جائے گا. تو، جماعت پنجم کے نصاب میں شامل تصورات سے ایک اسسمنٹ پیپر تیار کیا گیا. عجیب وغریب نتائج دیکھنے کو ملے. سب کے سب طلبہ ناکام رہے. ہم سب دھنگ رہ گے کہ اب کیا کیا جائے. آیا سب بچوں کو داخلہ دے دیا جائے یا پھر دوبارہ ٹیسٹ کی تاریخ مقرر کی جائے. اور یہ بات بھی زیر بحث آئی کہ بچے دوبارہ ناکام رہے تو پھر کیا ہو گا کہ چھٹی کلاس میں بچے کدھر سے آئیں گے. یہ تو ممکن ہی نہیں کہ کلاس ہی نہ رکھی جائے. بہر صورت حل یہ نکالا گیا کہ ٹیسٹ کی اہلیت کے معیار کو بدلا گیا. جو بچہ خواندگی کی بنیادی مہارتوں (جماعت سوم کے لیول پر پڑھ اور لکھ سکنے) کی صلاحیت رکھتا ہو اس بچے کو داخلہ دے دیا جائے گا. بنیادی خواندگی کی مہارتوں کو جانچنے کے لیئے اسسمنٹ پیپر تیار کیا گیا کہ کم از کم جو بچہ پڑھ اور لکھ سکے گا اس کو داخلہ دے دیا جائے گا. دوبارہ ٹیسٹ کے نتیجے میں 80 میں سے 20 طلبہ بنیادی خواندگی ٹیسٹ میں سرے سے ناکام رہے یعنی ناخواندہ نکلے جماعت سوم کی سطح کے ٹیسٹ میں بھی، یہ ایک بہت ہی بڑا چیلنج اٹھ کر ہمارے سامنے آیا.
ان 20 ناخواندہ بچوں کو بھی اس امید کے ساتھ چھٹی کلاس میں داخلہ دے دیا کہ ہم ان بچوں کو علیحدہ خصوصی کلاس میں بٹھا کر پہلے خواندگی کی بنیادی مہارتیں سکھائیں گے کہ یہ بچے پڑھنے اور لکھنے کے قابل ہو جائیں تب ان کا تعلیمی سلسلہ، تصوراتی تدریس و تعلم شروع کیا جائے گا. سب دوستوں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے کمر کس لی کہ اس مشکل ٹاسک سے نبرد آزما ہونا ہی ہے.
ہاں ایک بڑی ہی دلچسپ بات اور سامنے آئی، کسی ایک دوست کو یہ خیال آیا کہ ساتویں سے دسویں جماعت تک تمام طالب علموں کو بھی اسی خواندگی کے اسسمنٹ ٹیسٹ سے گزارا جائے تاکہ ان کی تعلیمی صورتحال کے ساتھ بنیادی خواندگی کی مہارتوں کا علم بھی ہو سکے. اس سطح کے بچوں کو نالج کے علاوہ کہیں یہ بنیادی خواندگی کی مہارتوں کا مسئلہ درپیش نہ ہو. اس لیئے، ان بڑی کلاسوں کے بچوں کو اسی ٹیسٹ سے گزارا گیا تا کہ ان کی بھی بنیادی صلاحیتوں کی جانچ ہو سکے. یہ سب کے لییے لئے حیرت انگیز تھا کہ خواندگی کی مہارت سے عاری بچے بڑی کلاسوں میں بھی موجود پائے گئے۔
تاہم ، سکول ٹیم نے ایک مؤثر تعلیمی منصوبہ سازی کی کہ اساتذہ کی ٹیم اضافی محنت سے ان معصوم اور مجبور بچوں کو بنیادی خواندگی کی کلاسیں لگا کر تعلیم بالغاں کے پڑھانے کے تدریس و تعلم کے اصولوں اور نفسیات کو مد نظر رکھ کر ان کو تیار کیا جائے۔ ایک بہترین اور محنتی تدریسی ٹیم کی وجہ سے ہمیں بہت جلد کامیابی حاصل ہوگئی۔ ٹیم نے پہلے انھیں اردو صوتیات (آوازوں کے جوڑ توڑ، ارکان اور الفاظ) سکھائے یوں انھوں نے پڑھنا سیکھا اور تحریری مشق خوشنویسی اور املاء کے اصولوں کو مد نظر رکھ کر ان کی بنیادی خواندگی کی مہارتیں سکھائیں. ان بچوں نے بہت جلدی دلچسپی لینا شروع کی کیونکہ یہ اپنے نفع اور نقصان کو خوب جان گئے تھے. سکھائی اور سیکھی گئی ان بنیادی خواندگی کی مہارتوں سے آگے تصورات کی تدریس کو سمجھنے میں آسانی ہونی شروع ہوگئی.
واقعی، ہمارے سامنے یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا اور اس سے بڑھ کر تعجب بھی ! مگر بات اور معاملہ ادھر ختم نہیں ہو جاتا. بیماروں کا اعلاج تو ہم نے کر لیا مگر بیماری تو اپنی جگہ موجود ہے. اگر مکان کی چھت ٹپک پڑے تو نیچے سے پانی نہیں روکا جاسکتا بلکہ چھت میں جو خرابی ہوتی ہے اس کا حل نکالا جاتا ہے. آمدم بر سر مطلب، بظاہر ہر کوئی پرائمری کے اساتذہ کرام کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے. کچھ کا کہنا ہے کہ “سنگل میٹرک پاس ٹیچر” اس سے بہتر نتائج دیا کیا کرتے تھے آج ہر سرکاری سکول میں کم از کم دو اساتذہ جبکہ پرائیویٹ سیکٹر سکول میں “گریڈ وائز” اساتذہ موجود ہیں. ماضی کا استاد صرف میٹرک پاس ہوا کرتا تھا ان کے برابر نتائج آج کا “ماسٹر/بی ایس” اور بی ایڈ/ایم ایڈ ڈگری یافتہ استاد کیوں نہیں دے پا رہا؟ بیماری بڑی عجیب ہے جو گزشتہ کئی دھائیوں میں سرائیت کرتے کرتے ناقابل اعلاج ہو چکی ہے. سرطان بن چکی ہے. یاد رہے کہ بنیادی خواندگی کے ٹیسٹ میں پرائیویٹ سیکٹر اور پبلک سیکٹر دونوں کا ہی تعلیمی حال بہت ہی “پتلا” سامنے آیا. پرائیویٹ سیکٹر جہاں مالک تعلیمی خدمات کے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار کے بھی فکر میں رہتا ہے. اپنے اساتذہ کرام کے پیچھے ہما وقت ڈنڈا لے کر پھر رہا ہوتا ہے مگر وہ بھی نتائج حاصل نہیں کر پا رہا. بیماری کا سراغ نہیں اسے بھی نہیں مل رہا. والدین، اساتذہ اور ماہرین تعلیم بے بس ہیں.
تجربے اور مشاہدے میں یہ آیا کہ ہمیں مربوط نصاب (مربوط درسی کتاب) کو ابتدائی جماعتوں نرسری، پرپ (کچی) سے جماعت سوم تک بحال کرنا ہوگا جو ماضی میں رائج تھی. صرف ایک کتاب ہوا کرتی تھی بچے کو بنیادی خواندگی کی مہارتیں اور زندگی کی مہارتیں سکھائی جاتی تھیں. بچوں پر کتابوں کا اضافی بوجھ بھی نہیں ہوا کرتا تھا. دراصل اس لیول پر تعلیم کے مقاصد بھی یہی تھے اور آج بھی یہی مقاصد ہیں مگر ہم بلا وجہ بغیر سمجھے اس لیول پر بچوں پر مضامین اور کتابوں کا بوجھ لادتے ہی چلے گے. بنیادی مہارتوں کے بدلے تصوراتی تدریس کے پیچھے پڑ گے. زہے قسمت، نتیجہ ناخواندہ لاٹ کی شکل میں ملا جو بہت ہی خطر ناک ہے!
ہمیں بلا تاخیر ماضی کے اپنے نظام کو بحال کرنا ہو گا جو کہ آج کے “کریکولم” کو اٹھا کر دیکھیں ایسا ہی ہے لیکن ہمارے ماہرین نصاب اور ارباب اجتیار آنکھیں بند کر کے اس لیول کے معصوم بچے پر مضامین کا اضافہ کرتے ہی چلے جا رہے ہیں. کبھی معزز عدالت نوٹس لیتی ہے کہ بچے پر بستے کا بوجھ کم کیا جائے. کبھی ڈاکٹر والدیں کو کہتے پھرتے ہیں کہ بچے کی کمر سیدھا رکھنا چاہتے ہو تو بستہ خود اٹھا کر بچے کو سکول میں چھوڑ کر اور واپس لائیں. بہر صورت “کشتی جب ڈوبتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں” طلباء سے اضافی کتابوں کا بوجھ کم ہی نہیں کرنا ہو گا بلکہ نصاب اور تعلیمی نفسیات کے اصولوں کے مطابق ڈھیروں مضامین کا بوجھ ختم کیا جانا از حد ضروری ہے۔ اس لیول پر کوئی ہوم ورک وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی. ہم نے طلبہ کا بچپن، کھیل کود اور خوش رہنا چھین لیا ہے. اس لیول پر “ہوم ورک” جو صرف اور صرف والدین کو مطمئن رکھنے کے لیئے تفویض کیا جاتا ہے کیونکہ والدین آج کل نجی شعبے کے کاروباری احداف کو نہ سمجھتے ہوئے متاثر ہیں. ہوم ورک اس لیول پر طلبہ پر تصوراتی تدریس کے علاوہ مزید بوجھ بلکہ نفسیاتی بیماری ہے. اس لیول پر ہر کام استاد کی نگرانی میں ہوتا ہے. اکثر طلبہ کے بدلے والدین یہ ہوم ورک خود مکمل کرتے ہیں کہ ان کے بچے رات گئے سو تو سکیں. بچے کی نیند پوری نہیں ہوتی. والدین ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے چلے جاتے ہیں اور آخر غصہ میں خود ہوم ورک اپنے ہاتھ سے مکمل کرتے ہیں اور ساتھ بچے، اساتذہ اور سکولوں کو کوستے ہیں.
ضرورت اس امر کی ہے کہ کچی/اول سے سوم تک ہمیں اپنے پرانے نظام کو بحال کرنا چاہیئے جو ایک مصدقہ حقیقت (ٹیسٹڈ) نظام تعلیم تھا جو ہم نے بلا جواز ختم کر دیا. اپنے پرانے کامیاب نظام تعلیم کو بحال کرنا ہو گا، جسمیں:
(1) سننا، بولنا، پڑھنا اور لکھنا (2) تختہ تحریر کا استعمال(3) تختی لکھنا(4) سلیٹ پر گنتی اور لکیریں (5)خوشخطی (6) املاء
(7) گنتی اور بنیادی حساب کتاب (8) پہاڑے (یاد رہے کہ پہاڑوں کا متبادل آج تک نہیں ہے) (9) زندگی کی بنیادی مہارتیں، بنیادی اخلاقیات اور اسلامی تعلیمات بحال کرنے ہوں گے.
ہاں، اس مرحلے میں ہمیں صرف خواندگی کی بنیادی صلاحیتوں، سننا، بولنا، پڑھنا اور لکھنا مضبوط کرنے کی ضرورت ہے جس پر ہمیں کام کرنا ہوگا۔ اس مرحلے پر کوئی اضافی بوجھ بچے پر نہین ڈالنا چاہیئے. غیر ضروری اضافی معلومات فراہم کرنے کی ضرورت بالکل نہیں ہے۔ والدین کو متاثر کرنے کے لئے کوئی ہوم ورک یا دوسری اسائنمنٹس نہیں دینی چاہئیں اور والدین کو بھی اس دلفریب دھوکے میں نہیں آنا چاہیئے.
البتہ بنیادی اسلامی عقائد اور معاشرتی اقدار غیر محسوس طور پر اس کے ساتھ سکھانی چاہیں. غیر محسوس اس لیئے کہ بچے پر بوجھ نہ بنیں وہ خوشی خوشی سکول آئیں اور ان کا ڈراپ آوٹ بھی نہ ہونے پائے۔
اس نازک صورتحال کو بہتر بنانے کیلیئے تمام ماہرین تعلیم اور ارباب اختیار کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا.
مگر ہماری قوم کی بد بختی یہ ہے کہ ہم عقل کے بدلے نقل کو ترجیح دیتے ہیں. اپنا پرائمری لیول کا بہترین نظام چھوڑ کر غیروں کی نقل میں معصوم پھول جیسے بچوں کو بوجھ تلے دبا کر رکھ دیا ہے جو نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے. کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا.
نتیجہ پانچ جماعت پاس ناخواندہ لاٹ! اس نازک صورتحال سے نمتنے کے کئی اور بہتر حل ہوسکتے ہیں تاہم ہم نے اپنی ٹیم کی کاوش اور کامیابی کی کہانی اور سیکھا ہوا سبق آپ سے شیئر کیا ہے دعا ہے کہ اللہ کریم اپنے حبیب پاک محمد مصطفیٰ صل اللہ علیہ والہ و بارک و سلم کے صدقے عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین.
وما علینا الا البلغ المبین

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *